ایتھیریم کے ڈویلپرز نے ETH ڈینور کانفرنس میں اعتراف کیا کہ اگرچہ کرپٹو انفراسٹرکچر مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے، لیکن عام صارفین کے لیے ایسی پروڈکٹس تیار نہیں ہو سکیں جو انہیں روزمرہ زندگی میں استعمال کرنے کا حقیقی فائدہ دے سکیں۔ یہ بیان اس گہرے چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے جس کا سامنا بلاک چین ٹیکنالوجی کو ہے، جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود صارفین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو پایا۔
ایتھیریم ایک معروف بلاک چین پلیٹ فارم ہے جو اسمارٹ کانٹریکٹس کی بدولت ڈی سینٹرلائزڈ ایپلیکیشنز (DApps) بنانے کی سہولت دیتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم بلاک چین کی دنیا میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے اور اس نے مالی، گیمز، اور دیگر شعبوں میں جدت کی راہیں ہموار کی ہیں۔ تاہم، اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ٹیکنالوجی کی پیچیدگی اور صارف دوست پروڈکٹس کی کمی نے بڑے پیمانے پر اپنانے میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔
کرپٹو کرنسیز اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے ابتدائی عرصے میں سرمایہ کاری اور دلچسپی زیادہ تھی، لیکن اب صارفین کی حقیقی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے والی ایپلیکیشنز کی کمی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اس سے نہ صرف صارفین کی تعداد محدود ہے بلکہ سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے کہ وہ کس طرح ایسی پروڈکٹس متعارف کروائیں جو آسان، محفوظ اور مفید ہوں۔
آئندہ کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ بلاک چین انڈسٹری اپنی توجہ صرف بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے ہٹا کر صارفین کی ضروریات اور سہولتوں پر مرکوز کرے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بلاک چین ٹیکنالوجی اپنی اصل صلاحیت کو بروئے کار لا سکتی ہے اور عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر اپنائی جا سکتی ہے۔ ورنہ یہ ممکن ہے کہ یہ ٹیکنالوجی محض ایک محدود حلقے تک محدود رہ جائے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt