جنوبی کوریا کی معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج بِتھمب نے اندرونی نظام میں سنجیدہ خامیوں کا اعتراف کیا ہے جس کی وجہ سے اس کے صارفین کے لیے ایک بڑی مالی غلطی ہوئی۔ کمپنی کے سی ای او لی جے-وون نے بتایا کہ مناسب کنٹرولز کی کمی کی وجہ سے تقریباً 40 ارب امریکی ڈالر مالیت کے بٹ کوائن غلطی سے صارفین کو منتقل ہو گئے۔ خوش قسمتی سے، اس میں سے زیادہ تر رقم بازیاب کر لی گئی ہے۔
بِتھمب جنوبی کوریا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینجز میں سے ایک ہے، جو صارفین کو بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں تکنیکی مسائل یا سیکیورٹی کی خامیاں اکثر مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں، اور بِتھمب کا یہ واقعہ بھی اس سلسلے میں ایک اہم مثال ہے۔
اس غلطی کا انکشاف کرپٹو مارکیٹ میں اعتماد کے حوالے سے فکر مندی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ صارفین کی سرمایہ کاری کی حفاظت اولین ترجیح ہوتی ہے۔ کمپنی نے اپنی اندرونی نگرانی میں کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مسائل دوبارہ پیش نہ آئیں۔ اس کے علاوہ، یہ واقعہ دیگر کرپٹو ایکسچینجز کے لیے بھی انتباہ ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی اور کنٹرول میکانزم کو مضبوط بنائیں۔
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی پیچیدگیوں کے باعث اس قسم کی خامیاں سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔ بورڈ اور ریگولیٹری ادارے بھی اس طرح کے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ صارفین کے حقوق اور مالی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
آنے والے دنوں میں بِتھمب کے اس مسئلے کی مکمل تحقیقات اور اصلاحی اقدامات کی تفصیلات سامنے آئیں گی، جو کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں شفافیت اور اعتماد کی بحالی کے لیے اہم ہوں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk