جنوبی کوریا کی معروف کرپٹوکرنسی ایکسچینج بیتھم نے ایک آپریشنل غلطی کے باعث صارفین کے اکاؤنٹس میں بڑی مقدار میں بٹ کوائن بھیج دیے، جس سے مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ ایک پروموشنل ایونٹ کے دوران پیش آیا، جس میں کمپنی نے صارفین کو نقد انعامات دینے کا منصوبہ بنایا تھا۔
ایونٹ کے تحت “رینڈم باکس” کے ذریعے 20,000 سے 50,000 کورین وون تک کے نقد انعامات تقسیم کیے جانے تھے، لیکن عملے نے غلطی سے انعامات کی رقم بٹ کوائن کی شکل میں درج کر دی۔ نتیجتاً، کچھ صارفین کو تقریباً 2,000 بٹ کوائنز موصول ہوئے، جس کی مالیت اس وقت کے حساب سے تقریباً 196 ارب وون فی صارف بنتی ہے۔ اس غلط تقسیم کے بعد متعدد صارفین نے یہ بٹ کوائنز فروخت کر دیے، جس سے بیتھم پلیٹ فارم پر بٹ کوائن کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی، جو کہ عام مارکیٹ قیمتوں سے نمایاں کم تھی۔
بیتھم نے ایک بیان میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس غلطی کا ان کے اندرونی کنٹرول نظام نے فوری طور پر پتہ لگا لیا اور متاثرہ اکاؤنٹس کی ٹرانزیکشنز کو روک دیا گیا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ کسی بیرونی ہیکنگ یا سیکیورٹی بریچ کا نتیجہ نہیں تھا اور صارفین کے اثاثوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب بٹ کوائن عالمی مارکیٹ میں ایک بڑی قیمت گراوٹ کا شکار تھا۔ گزشتہ دنوں بٹ کوائن کی قیمت 60,000 ڈالر تک گر گئی تھی، جو اس کی تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ میں سے ایک تھی، اور یہ اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 50 فیصد کم ہو گئی تھی۔ اس دوران لیکویڈیشنز کی وجہ سے مارکیٹ میں مزید بے چینی پھیلی۔
اس واقعے نے کرپٹو مارکیٹ کی حساسیت اور تکنیکی غلطیوں کے ممکنہ اثرات کو واضح کیا ہے۔ اگرچہ بیتھم نے فوری طور پر صورتحال کو کنٹرول کر لیا، لیکن اس قسم کی غلطیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہیں اور مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine