بٹ کوائن کی قیمت میں کمی، سونے اور اسٹاکس کے مقابلے میں کمی، کوانٹم کمپیوٹنگ کے خدشات کو دوبارہ اجاگر کر دیا

زبان کا انتخاب

حال ہی میں بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر سونے اور عالمی اسٹاک مارکیٹ کے مقابلے میں اس کی کمزوری نے کوانٹم کمپیوٹنگ کے ممکنہ خطرات کو دوبارہ زیر بحث لایا ہے۔ کوانٹم کمپیوٹنگ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو روایتی کمپیوٹرز سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور اس کی مدد سے بٹ کوائن کی کرپٹوگرافک سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین اور ڈیولپرز کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں میں کمی کا سبب بنیادی طور پر مارکیٹ کے ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے رجحانات ہیں نہ کہ فوری طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرات۔
بٹ کوائن، ڈیجیٹل کرنسیوں کی دنیا میں سب سے زیادہ معروف اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی کرپٹوکرنسی ہے، جو بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس کی سکیورٹی روایتی کمپیوٹنگ کی حدود میں محفوظ سمجھی جاتی ہے، لیکن کوانٹم کمپیوٹرز کے ابھرنے سے یہ تصور بدل سکتا ہے کیونکہ وہ کرپٹوگرافک الگورتھمز کو تیزی سے توڑ سکتے ہیں۔ اس خدشے کے پیش نظر سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں، جس کا اثر بٹ کوائن کی قیمت پر پڑ رہا ہے۔
تاہم، موجودہ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجوہات میں عالمی معاشی عدم استحکام، سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی اور دیگر مالیاتی اثاثوں کی کارکردگی شامل ہیں۔ سونا اور اسٹاکس جیسے روایتی اثاثے اس وقت زیادہ مستحکم دکھائی دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے بٹ کوائن سے ان کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
مستقبل میں، کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے بٹ کوائن کی ٹیکنالوجی میں ردوبدل اور اپ گریڈ کی گنجائش موجود ہے، لیکن فی الوقت یہ خدشات سرمایہ کاروں کے لیے ایک محتاط رویہ اپنانے کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ مارکیٹ کی موجودہ صورتحال اور تکنیکی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری میں توازن اور احتیاط رکھیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے