بٹ کوائن کے طویل مدتی حاملین میں فروری کی فروخت کے بعد کمزوری کے آثار

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کے طویل مدتی حاملین نے حالیہ عرصے میں اپنی جمع پونجی میں کمی کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آن چین ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اگر بٹ کوائن کی قیمت 65,000 ڈالر کی سطح سے نیچے گر گئی تو اگلا اہم حمایتی نکتہ تقریباً 54,000 ڈالر پر متوقع ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے، گزشتہ چند سالوں میں سرمایہ کاروں کے لیے ایک قابلِ اعتماد اثاثہ بن چکا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اسے طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر رکھتے ہیں۔ تاہم، فروری میں ہونے والی بڑے پیمانے پر فروخت نے اس کے حاملین میں ہچکچاہٹ پیدا کی ہے اور انہیں اپنی پوزیشنز کم کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کار منافع کمانے کے بعد اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کا رجحان رکھتے ہیں۔
آن چین تجزیات بٹ کوائن کے نیٹ ورک پر ہونے والے لین دین اور ہولڈرز کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لیتے ہیں، جو مارکیٹ کی مجموعی صحت کے بارے میں اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔ طویل مدتی ہولڈرز کی کمزوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مزید جمع کرنے میں محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جو کہ ممکنہ طور پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی جانب اشارہ ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کرپٹو مارکیٹ کی عمومی صورتحال اور عالمی معاشی عوامل سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ممکنہ خطرات کو سمجھیں اور اپنی سرمایہ کاری کو متنوع بنائیں تاکہ غیر متوقع مارکیٹ تبدیلیوں سے بچا جا سکے۔ اگر قیمت 54,000 ڈالر کے حمایتی نکتہ تک گر گئی تو اس کے مزید نیچے جانے کا خطرہ بھی موجود ہو سکتا ہے، جس سے مارکیٹ میں مزید مندی کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔
بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں عالمی مالیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں، لیکن ان کی قیمتوں میں غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے لیے چیلنجز بھی پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے مارکیٹ کی موجودہ صورتحال میں محتاط حکمت عملی اپنانا زیادہ دانشمندانہ قرار دیا جاتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش