بٹ کوائن کی قیمت میں پیر کے روز شدید کمی نے مارکیٹ میں نئی لیکویڈیشنز کو جنم دیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش پھیل گئی ہے۔ تجزیہ کار ایریک کراؤن نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ کو آئندہ مہینوں میں بھی مندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ حالیہ کمی محض آغاز ہو۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے مشہور اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرپٹو کرنسی ہے، نے گزشتہ کئی سالوں میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ اس کی قیمت میں اضافہ اور کمی دونوں نے عالمی مالیاتی مارکیٹوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ حالیہ ہفتے کے دوران اس کی قیمت میں تیزی سے کمی نے سرمایہ کاروں کی امیدوں کو ماند کر دیا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو قیمت کے جلد بڑھنے کے متوقع تھے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہے اور قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ عام ہیں۔ لیکویڈیشنز کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاروں کی پوزیشنز بند کی جا رہی ہیں کیونکہ وہ اپنے قرضوں کو پورا نہیں کر پارہے، جو مزید قیمتوں میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
بٹ کوائن کی اس حالیہ قیمت میں کمی نے نہ صرف اس کی قدر کو متاثر کیا ہے بلکہ مجموعی کرپٹو مارکیٹ کی صورتحال کو بھی متاثر کیا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ وقت مزید احتیاط کا متقاضی ہے کیونکہ مستقبل قریب میں مارکیٹ میں استحکام کا فقدان ہو سکتا ہے۔
اگرچہ بٹ کوائن نے ماضی میں کئی بحرانوں سے خود کو سنبھالا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں محتاط رویہ اپنانا ضروری ہے تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو اپنی مالی منصوبہ بندی میں لچک رکھنی چاہیے اور مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کو گہرائی سے سمجھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk