بٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل کمی نے کرپٹو کرنسی مائنرز کی مالی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ کرپٹو کرنسی انرجی کنزمپشن انڈیکس (CBECI) کے مطابق، اگر کوئی مائنر فی کلوواٹ گھنٹہ توانائی کے لیے کم از کم 0.10 ڈالر ادا کر رہا ہے تو اسے ہر بٹ کوائن کی مائننگ پر نقصان ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال مائننگ کے منافع بخش ہونے کے امکانات کو محدود کر رہی ہے اور بہت سے مائنرز کو مالی دباؤ میں ڈال رہی ہے۔
بٹ کوائن مائننگ وہ عمل ہے جس میں خاص کمپیوٹرز پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کرتے ہیں تاکہ نیٹ ورک کو محفوظ بنایا جا سکے اور نئے بٹ کوائن جاری کیے جائیں۔ یہ عمل توانائی کا بہت زیادہ استعمال کرتا ہے، اور مائننگ کی لاگت میں توانائی کی قیمت کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ جب بٹ کوائن کی مارکیٹ قیمت کم ہوتی ہے، تو وہ مائنرز جو مہنگی بجلی استعمال کر رہے ہوتے ہیں، انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
بٹ کوائن نے مالی دنیا میں انقلاب برپا کیا ہے اور گزشتہ دہائی میں اس کی قیمت میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی قیمت میں اتار چڑھاؤ بھی عام ہے۔ حالیہ کمی نے مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھا دیا ہے، جس سے مائنرز کو اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا بند کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ممکن ہے کہ توانائی کی مہنگائی والے علاقوں میں مائننگ کی سرگرمیوں میں کمی آئے، جبکہ کم لاگت توانائی والے خطے اس مارکیٹ میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں کا بھی مائنرز کی مالی حالت پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت کی اس حالیہ کمی نے نہ صرف مائنرز بلکہ سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے دیگر شرکاء کو بھی محتاط کر دیا ہے، کیونکہ مائننگ کی منافع بخشیت میں کمی کرپٹو کرنسی کی سپلائی اور مارکیٹ کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt