کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں حالیہ دنوں بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد کی گراوٹ نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کی ہے، تاہم ہیج فنڈ کے معروف ماہر گیمری بوڈ نے اس کمی کو کسی بحران کے طور پر نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق یہ کمی بٹ کوائن کی فطری اتار چڑھاؤ اور امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں کی مارکیٹ میں غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ کرپٹو کرنسی کی ساختی کمزوری۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے، اپنی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ کے لیے معروف ہے۔ اس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ یا کمی اکثر مارکیٹ کی عمومی صورتحال، عالمی معاشی حالات، اور مرکزی بینکوں کی مانیٹری پالیسیوں سے متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں اضافے اور دیگر اقتصادی اقدامات نے سرمایہ کاروں کے رویے پر اثر ڈالا ہے، جس سے کرپٹو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھی ہے۔
گیمری بوڈ کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کا یہ اتار چڑھاؤ عارضی ہے اور اس کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ ان کے مطابق مارکیٹ کے یہ ردعمل زیادہ تر فیڈ کی پالیسیوں کی غلط تشریحات کی وجہ سے ہیں، جو کہ وقت کے ساتھ واضح ہوں گی۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن کی محدود فراہمی اور بڑھتی ہوئی قبولیت اسے طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے قابل اعتماد بناتی ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اس طرح کے اتار چڑھاؤ نئے سرمایہ کاروں کے لیے خطرات کا باعث ہو سکتے ہیں، تاہم تجربہ کار سرمایہ کار اسے مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مستقبل میں، اگر فیڈرل ریزرو کی پالیسیاں مستحکم رہیں اور عالمی اقتصادی حالات بہتر ہوں تو بٹ کوائن کی قیمتوں میں دوبارہ بہتری آ سکتی ہے۔
یہ واضح ہے کہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں عالمی مالیاتی نظام کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہیں، لیکن ان میں سرمایہ کاری کرتے وقت مارکیٹ کی فطرت کو سمجھنا اور محتاط رہنا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk