بٹ کوائن کی قیمت میں شدید کمی کے باعث ‘وولیٹیلیٹی فیئر گیج’ ایف ٹی ایکس بحران کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمت میں تیزی سے شدید کمی کے باعث اس کی وولیٹیلیٹی یعنی قیمت کی غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کو ماپنے والا انڈیکیٹر BVIV تقریباً 100 فیصد کی سطح پر پہنچ گیا ہے، جو کہ 2022 میں معروف کرپٹو ایکسچینج ایف ٹی ایکس کے اچانک بحران کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ یہ انڈیکیٹر اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ میں خوف و بے یقینی کی فضا بہت زیادہ ہے اور سرمایہ کار قیمتوں میں غیر متوقع تبدیلیوں کی توقع کر رہے ہیں۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، گزشتہ چند مہینوں میں کئی بار قیمت میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ اس کی قیمت حال ہی میں تقریباً 60,000 امریکی ڈالر کے قریب تک گر گئی ہے، جو اس کی حالیہ بلندیوں سے کافی کم ہے۔ یہ کمی کرپٹو مارکیٹ میں عمومی عدم استحکام کا باعث بنی ہے اور سرمایہ کاروں میں تشویش پھیلائی ہے۔
ایف ٹی ایکس کا بحران 2022 میں کرپٹو انڈسٹری کے لئے ایک بڑا جھٹکا تھا، جب یہ ایکسچینج اچانک لیکویڈیٹی مسائل کی وجہ سے دیوالیہ ہوگیا تھا۔ اس واقعے کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا نے بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر منفی اثر ڈالا تھا۔ اب یہ صورتحال دوبارہ پیدا ہو رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں اعتماد کی بحالی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اس قسم کی اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے اور انہیں محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں کرپٹو مارکیٹ کے لئے استحکام کا انحصار عالمی مالیاتی حالات، ریگولیٹری اقدامات، اور کرپٹو ایکسچینجز کی صحت پر ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تلاش