ایران اور امریکہ کے درمیان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث سرمایہ کاری کے عالمی بازاروں میں عدم استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکی اثاثوں پر حملے تیز کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن سمیت امریکی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز نے اپنی ابتدائی بڑھت کو کھو دیا ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے معروف کرپٹو کرنسی ہے، عموماً عالمی سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کاروں کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، جب مشرق وسطیٰ میں تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کا اثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر فوری طور پر پڑتا ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز بھی عالمی سیاسی تناؤ کے حساس ہوتے ہیں اور ان میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا اثر عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔ اس طرح کے حالات میں سرمایہ کار عموماً محفوظ اثاثوں کی طرف رجوع کرتے ہیں، مگر بٹ کوائن اور اسٹاک فیوچرز میں اتار چڑھاؤ کی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال غالب ہے۔
مستقبل میں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو اس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید بے یقینی بڑھ سکتی ہے، جس کا اثر نہ صرف کرپٹو مارکیسی بلکہ دیگر مالیاتی اثاثوں پر بھی پڑے گا۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری میں احتیاط برتیں اور مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk