بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹوں میں بٹ کوائن کی کارکردگی سونے کے مقابلے میں کمزور رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ جاپانی ین کی مداخلت کے باعث خطرے والے اثاثوں پر پڑنے والے دباؤ کا باعث بنی ہے۔ سرمایہ کاروں نے رواں ہفتے جاپان کی مرکزی بینک کی جانب سے ین کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے مداخلت کے امکانات کو لے کر محتاط رویہ اپنایا ہے، جس سے عالمی خطرے والے اثاثوں کی طلب متاثر ہوئی ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ ایک معروف کرپٹو کرنسی ہے اور اسے اکثر ڈیجیٹل گولڈ کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے، نے حالیہ دنوں میں سونے کی طرح مضبوطی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ سونا، جو روایتی طور پر معاشی غیر یقینی صورتحال میں محفوظ پناہ گزین سمجھا جاتا ہے، نے اس دوران اپنی قیمت میں بہتر استحکام دکھایا۔ اس کے برعکس، خطرے والے اثاثے جیسے کہ کرپٹو کرنسیاں اور اسٹاک مارکیٹیں ین کی مداخلت کے خدشات کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوئیں۔
ین کی مداخلت سے مراد جاپان کی مالیاتی پالیسی میں ایسی کارروائیاں ہیں جو ین کی قدر کو بڑھانے یا مستحکم کرنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ یہ اقدامات عام طور پر عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر ردعمل کا باعث بنتے ہیں، کیونکہ ین ایک اہم عالمی کرنسی ہے۔ جب ین کی قیمت میں اچانک تبدیلی آتی ہے تو سرمایہ کار خطرے والے اثاثوں سے پیسہ نکال کر محفوظ اثاثوں کی جانب رجوع کرتے ہیں۔
بٹ کوائن کی قیمتوں پر اس کے اثرات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ ابھی بھی روایتی مالیاتی مارکیٹوں کے اثرات سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اگر ین کی مداخلت جاری رہی یا بڑھ گئی تو کرپٹو مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوگی۔
یہ صورتحال عالمی مالیاتی استحکام اور کرپٹو کرنسیوں کی مقبولیت کے درمیان تعلق کو واضح کرتی ہے، جہاں کرپٹو کرنسیاں تیزی سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی ایک شکل ہیں، مگر انہیں روایتی مالیاتی عوامل سے مکمل علیحدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk