بٹ کوائن کی قیمت 80 ہزار ڈالر سے نیچے آ کر تیزی سے کمزور

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمت اس ہفتے کے اختتام پر 2024 کی سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں مایوسی پھیل گئی ہے اور تاجروں میں مندی کا رجحان غالب آ گیا ہے۔ متعدد سرمایہ کاروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت 69 ہزار ڈالر تک گرنے کا امکان تقریباً 68 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، نے حالیہ مہینوں میں سخت اتار چڑھاؤ کا سامنا کیا ہے۔ 2021 میں اس کی قیمت تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچی تھی، لیکن اس کے بعد عالمی مالیاتی صورتحال، ریگولیٹری خدشات اور دیگر عوامل کی وجہ سے اس کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور تجارتی سرگرمیوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث بٹ کوائن کے نرخ مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی مالیاتی مارکیٹوں سے مختلف انداز میں کام کرتی ہے، اور اس میں اتار چڑھاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ جب بٹ کوائن کی قیمت میں کمی آتی ہے تو اکثر دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ قیمتوں میں مزید کمی کا خطرہ موجود ہے، جو مارکیٹ کی مجموعی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کے حوالے سے قوانین اور ضوابط کا اطلاق بھی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ میں کردار ادا کرتا ہے۔ مختلف ممالک میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے سخت پالیسیاں نافذ کی گئی ہیں، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں مالیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہیں گی، خاص طور پر ڈیجیٹل معیشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں موجودہ مندی وقتی ہو سکتی ہے اور مستقبل قریب میں مارکیٹ میں استحکام آ سکتا ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کی خبریں اور تکنیکی تجزیے بغور دیکھتے رہنا چاہیے تاکہ بہتر فیصلے کر سکیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے