دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت رات بھر 63,000 ڈالر کی سطح سے نیچے گر گئی ہے، جو اس کی اکتوبر کے مہینے میں ریکارڈ بلند ترین قیمت سے تقریباً 50 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس قیمت میں نمایاں کمی کے بعد مارکیٹ میں سرمایہ کار اور تاجروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں مزید کمی آ سکتی ہے۔
بٹ کوائن، جو کرپٹو کرنسی مارکیٹ کا سب سے مشہور اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا ڈیجیٹل اثاثہ ہے، نے گزشتہ چند سالوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ اکتوبر میں اس کی قیمت میں اضافہ عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سرمایہ کاری میں اضافے کی وجہ سے ہوا تھا۔ تاہم، حالیہ کمی نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ پایا جاتا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ، جو کہ روایتی مالیاتی منڈیوں سے مختلف اور زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہے، میں قیمتوں کی اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے۔ اس طرح کی کمی اکثر سرمایہ کاروں کے لیے خطرات اور مواقع دونوں پیدا کرتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں، سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ بٹ کوائن کی قیمت میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے، خاص طور پر جب عالمی اقتصادی حالات میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت میں اتنی بڑی کمی کے بعد، مارکیٹ کے تجزیہ کار اور تاجروں کی نظر مستقبل میں اس کی قیمت کی سمت پر مرکوز ہے۔ اگرچہ کچھ ماہرین کے مطابق یہ کمی سرمایہ کاروں کے لیے خریداروں کا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کی غیر مستحکم نوعیت کے پیش نظر ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مجموعی طور پر، بٹ کوائن کی قیمت میں یہ کمی کرپٹو مارکیٹ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے اثرات دیگر کرپٹو کرنسیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ وقت محتاط فیصلے کرنے اور مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt