بٹ کوائن کے ڈویلپرز نے کوانٹم کمپیوٹنگ کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پوسٹ-کوانٹم اپ گریڈز کی بنیاد رکھی ہے۔ کوانٹم کمپیوٹرز کی بڑھتی ہوئی طاقت سے کرپٹو کرنسیز کی سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ جدید کمپیوٹرز بٹ کوائن نیٹ ورک کی انکرپشن کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، ماہرین میں اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ خطرہ فوری ہے یا آنے والے کئی سالوں یا دہائیوں میں ظاہر ہوگا۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، اپنی سیکیورٹی کے لیے مضبوط انکرپشن پر انحصار کرتا ہے۔ کوانٹم کمپیوٹنگ کی ترقی سے بلاک چین کے انکرپشن پروٹوکول کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے صارفین کے فنڈز کی حفاظت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے بٹ کوائن کے ڈویلپرز نے اس خطرے کا سدباب کرنے کے لیے جدید کوانٹم-مزاحم اپ گریڈز پر کام شروع کر دیا ہے۔
کوانٹم کمپیوٹنگ کی بنیاد ایسے کمپیوٹرز پر ہے جو روایتی کمپیوٹرز کی نسبت بے حد تیز رفتار اور پیچیدہ حساب کتاب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے موجودہ کرپٹوگرافک پروٹوکولز کو توڑنا ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس تکنیکی پیش رفت کی حقیقت میں مکمل نفاذ اور اس کے اثرات کو لے کر مختلف ماہرین کے خیالات متضاد ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ کوانٹم خطرہ ابھی دور ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے وقت موجود ہے، جبکہ دیگر ماہرین اس کی شدت اور فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
بٹ کوائن کی اس نوعیت کی پیش رفت اس ڈیجیٹل کرنسی کی مستقبل کی سلامتی کے لیے اہم ہے، کیونکہ بلاک چین ٹیکنالوجی کی سیکیورٹی میں کسی بھی قسم کی کمزوری صارفین کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ آنے والے عرصے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ اپ گریڈز کب تک مکمل طور پر نافذ ہوں گے اور کیا یہ بٹ کوائن کو کوانٹم خطرات سے مکمل تحفظ فراہم کر پائیں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt