بٹ کوائن قیمت 67,000 ڈالر کے قریب مستحکم، سرمایہ کار کرش سے بچاؤ کے لیے ادائیگیاں کر رہے ہیں

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمت حال ہی میں 67,000 امریکی ڈالر کے قریب مستحکم ہو گئی ہے، تاہم مارکیٹ میں عدم استحکام کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔ ایک معروف تجارتی فرم کے تاجر کے مطابق، بٹ کوائن کے ای ٹی ایف (ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ) میں سرمایہ کاری کرنے والے اوسطاً تقریباً 20 فیصد کاغذی نقصان میں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اگر قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوئی تو یہ سرمایہ کار خوفزدہ ہو سکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر فروخت شروع کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی فروخت کو مارکیٹ میں “کیپیٹولیشن سیلنگ” کہا جاتا ہے، جو عام طور پر قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ کا باعث بنتی ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، گزشتہ چند سالوں میں سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عام بات ہے اور یہ عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں بھی نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے۔ ای ٹی ایف کی وجہ سے اب زیادہ سرمایہ کار بٹ کوائن میں بلاواسطہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور قیمتوں کی حساسیت میں اضافہ ہوا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں سرمایہ کار عموماً قیمتوں کی گراوٹ سے بچاؤ کے لیے مختلف مالیاتی آلات کا استعمال کرتے ہیں، جنہیں “کرش پروٹیکشن” کہا جاتا ہے۔ یہ حکمت عملی انہیں اچانک قیمتوں میں کمی سے بچانے میں مدد دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمتوں کا آئندہ کا رجحان عالمی مالیاتی حالات، کرپٹو مارکیٹ کے قوانین، اور سرمایہ کاروں کے رویے پر منحصر ہوگا۔ مارکیٹ میں عدم استحکام کی صورت میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور اچانک فیصلے کرنے سے گریز کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش