ہفتے کے اختتام پر کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت 65,000 ڈالر کی سطح تک گر گئی۔ یہ کمی بدھ کو 70,000 ڈالر کے قریب پہنچنے والی قیمت میں بڑی حد تک پیچھے ہٹنے کا باعث بنی۔ اس مندی کی بنیادی وجوہات میں سخت پیداواری قیمتوں کے اعداد و شمار اور این ویڈیا کی آمدنی کے بعد اس کے حصص کی قیمت میں کمی شامل ہے، جس نے خطرے والے اثاثوں کو دباؤ میں لے لیا۔
سولانا، ایکس آر پی اور ڈوج کوائن جیسی دیگر معروف کرپٹو کرنسیاں بھی اس دوران تقریباً 6 فیصد نیچے آگئیں۔ یہ کرپٹو کرنسیاں حالیہ عرصے میں مستحکم اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ کا حصہ رہی ہیں، تاہم عالمی اقتصادی حالات اور مارکیٹ کے عمومی رجحانات ان کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنتے ہیں۔
کرپٹو کرنسیز کی مارکیٹ عمومی طور پر عالمی اقتصادی خبروں، کمپنیوں کی کارکردگی، اور سرمایہ کاروں کے جذبات سے متاثر ہوتی ہے۔ این ویڈیا جیسے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مالی کارکردگی میں کمی سرمایہ کاروں میں خدشات پیدا کرتی ہے جس کے اثرات کرپٹو کرنسیز پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ پیداواری قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی عکاسی کرتا ہے جو سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معاشی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ محتاط رہیں اور اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے احتیاط سے کریں کیونکہ مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال جاری رہ سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk