کریپٹو کرنسی کی قیمتوں میں جمعہ کو معمولی اضافہ دیکھا گیا، حالانکہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرفز کو غیر قانونی قرار دیا جس سے کچھ تجارتی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس فیصلے کے باوجود بٹ کوائن نے اپنی قیمت میں استحکام اور اضافہ دکھایا اور 68,000 ڈالر کے قریب پہنچ گیا، جبکہ دیگر الٹ کوائنز نے بھی معمولی بہتری کا مظاہرہ کیا۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے مشہور اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، نے گزشتہ چند برسوں میں مالیاتی مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط کی ہے۔ اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی معاشی اور سیاسی حالات کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر جب بڑے ممالک کے اقتصادی فیصلے اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرفز کا مقصد امریکی مصنوعات کی درآمدات پر اضافی محصول لگانا تھا تاکہ ملکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ تاہم سپریم کورٹ نے ان ٹیرفز کو غیر قانونی قرار دے کر اس اقدام کو محدود کر دیا، جس سے عالمی تجارتی ماحول میں کچھ حد تک وضاحت اور سکون آیا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ میں اس فیصلے کے فوری اثرات کے طور پر سرمایہ کاروں نے کچھ خطرات کو کم سمجھا اور اس کے نتیجے میں بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ کرپٹو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال ہمیشہ موجود رہتی ہے، لیکن اس طرح کے قانونی فیصلے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
آگے جا کر، بٹ کوائن اور الٹ کوائنز کی قیمتیں عالمی اقتصادی حالات، حکومتی پالیسیاں اور کرپٹو ریگولیشنز کے تحت متاثر ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہتے ہوئے مارکیٹ کے حالات پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk