بٹ کوائن نے حالیہ دنوں میں قیمت میں آنے والی کمی کو پس پشت ڈال کر دوبارہ 70,000 ڈالر کی اہم سطح عبور کر لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں میں تجدیدِ اعتماد دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر برنسٹین کی جانب سے بٹ کوائن کی قیمت 150,000 ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کے بعد مارکیٹ میں مثبت رجحان مضبوط ہوا ہے۔ برنسٹین کے گوتم چھگنی نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال بٹ کوائن کی تاریخ میں سب سے کمزور بیئر مارکیٹ ہے، یعنی مندی کے امکانات نسبتاً کم ہیں۔
بٹ کوائن، جو کہ سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، نے گزشتہ کئی سالوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ اس کی قیمت میں اضافہ یا کمی عالمی مالیاتی منڈیوں، تکنیکی ترقیات، اور ریگولیٹری اقدامات کے اثرات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ حالیہ وقتوں میں کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود بٹ کوائن نے اپنی مقبولیت برقرار رکھی ہے، اور اسے سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم متبادل سمجھا جاتا ہے۔
برنسٹین کی جانب سے یہ پیش گوئی کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت مزید بڑھے گی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سازگار رہے گی۔ تاہم، کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کی خاصیت یہ ہے کہ یہ انتہائی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو ہمیشہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
آنے والے ہفتوں میں بٹ کوائن کی قیمت پر عالمی معاشی حالات، مرکزی بینکوں کی پالیسیز، اور کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے قوانین کی تبدیلیاں اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اس لیے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کی موجودہ صورتحال اور ممکنہ خطرات کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk