کریپٹو کرنسی بٹ کوائن کے مارکیٹ میں حالیہ سرگرمیوں نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ حالیہ دنوں میں بٹ کوائن کے ڈیریویٹیوز مارکیٹ میں فنڈنگ ریٹ منفی ہو کر تین ماہ کی سب سے کم سطح پر پہنچ گیا ہے، جو کہ شارٹ پوزیشنز میں اضافے اور مارکیٹ میں ایک مخصوص دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ فنڈنگ ریٹ ایک ایسا میکانزم ہے جو لانگ اور شارٹ ٹریڈرز کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور جب یہ منفی ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ شارٹ پوزیشن رکھنے والے سرمایہ کاروں کو اضافی لاگت برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔
اس کے علاوہ، مارکیٹ میں اوپن انٹرسٹ میں اضافہ اور لیکوئڈیشنز کی بڑھتی ہوئی تعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور سرگرمی کافی زیادہ ہے۔ اوپن انٹرسٹ ایک ایسا اشاریہ ہے جو مارکیٹ میں کھلی ہوئی مجموعی پوزیشنز کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے، اور اس کا بڑھنا مارکیٹ کے متحرک ہونے کی علامت ہے۔ لیکوئڈیشنز کا بڑھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کئی سرمایہ کار اپنے پوزیشنز کھو رہے ہیں۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، اپنی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باعث ہمیشہ سرمایہ کاروں کے لیے دلچسپی کا باعث رہی ہے۔ ڈیریویٹیوز مارکیٹ میں یہ سرگرمیاں عام طور پر قیمتوں میں اچانک تبدیلیوں کی پیشگوئی کرتی ہیں، خاص طور پر جب فنڈنگ ریٹ منفی ہو اور اوپن انٹرسٹ میں اضافہ ہو۔
ماہرین کے مطابق، منفی فنڈنگ ریٹ کے دوران اگر بٹ کوائن کی قیمت اچانک بڑھتی ہے تو یہ شارٹ پوزیشن رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے مارکیٹ میں ایک شارٹ سکویز پیدا ہو سکتا ہے۔ شارٹ سکویز کی صورت میں شارٹ پوزیشن رکھنے والے سرمایہ کار اپنی پوزیشنز بند کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں زیادہ تیزی آ سکتی ہے۔
اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ڈیریویٹیوز مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ سے بٹ کوائن کی قیمت متاثر ہو سکتی ہے، جو کہ عالمی کریپٹو مارکیٹ کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk