بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور یہ فی الحال 68,000 ڈالر کے قریب تجارت کر رہا ہے، جبکہ دیگر معروف کرپٹو کرنسیاں جیسے ڈوج کوائن اور ایتھیریم کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے پیچھے عالمی تجارتی ماحول میں غیر یقینی صورتحال کا اثر نمایاں ہے، خاص طور پر ریاستہائے متحدہ کی نئی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر ٹیکس کی شرح کو 15 فیصد تک بڑھا دیا ہے، حالانکہ اعلیٰ عدالت نے ان کے ایمرجنسی تجارتی اقدامات کو چیلنج کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد چین سمیت دیگر تجارتی شراکت داروں پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے۔ اس طرح کے ٹیکسوں میں اضافہ عالمی بازاروں میں سرمایہ کاری کے رجحانات کو متاثر کر رہا ہے، جس کی وجہ سے خطرے والے اثاثوں جیسے کہ کرپٹو کرنسیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ ایک انتہائی غیر مستحکم مارکیٹ تصور کی جاتی ہے جہاں سرمایہ کار عالمی اور مقامی معاشی و سیاسی تبدیلیوں کی بنیاد پر جلدی ردعمل دیتے ہیں۔ ٹیکس کی شرح میں اضافہ اور تجارتی تنازعات کی شدت سے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کا نتیجہ کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
اگرچہ بٹ کوائن نے اپنے تاریخی ریکارڈز بنائے ہیں، لیکن تجارتی دباؤ اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث اس کی قیمتوں میں تذبذب جاری رہنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ وقت محتاط فیصلے کرنے کا ہے کیونکہ عالمی تجارتی تعلقات کے مستقبل میں مزید تبدیلیاں کرپٹو مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk