امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے حالیہ بیانات کے بعد عالمی سونا مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی ہے اور سونے کی قیمت تاریخی حد سے تجاوز کرتے ہوئے 5,400 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پاول نے کہا کہ وہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں جاری تیزی کو کسی بڑے معاشی اشاریے کے طور پر نہیں دیکھتے، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے سونے کی خریداری میں اضافہ کیا۔
دوسری جانب، بٹ کوائن کی قیمت میں خاصی مستحکمی دیکھی گئی ہے اور اس نے زیادہ نمایاں اضافہ نہیں کیا۔ بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے معروف کرپٹو کرنسی ہے، عام طور پر عالمی مالیاتی حالات اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں سے متاثر ہوتی ہے، مگر اس بار اس کی قیمت میں زیادہ ردوبدل نہیں آیا۔
سونے کی قیمت میں اضافہ کی بنیادی وجہ عالمی مالیاتی عدم یقینی صورتحال اور افراط زر کے خدشات ہیں، جس کے باعث سرمایہ کار روایتی اور محفوظ اثاثوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ سونا ایک تاریخی طور پر محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے۔ اس کے برعکس، کرپٹو کرنسیاں، بشمول بٹ کوائن، زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہیں اور ان میں سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ خطرات وابستہ ہوتے ہیں۔
امریکہ کی مرکزی بینک کی پالیسی اور عالمی معاشی صورتحال کے پیش نظر، سونے کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے، جبکہ بٹ کوائن کی قیمت پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں حکومتی ریگولیشنز، تکنیکی اپ ڈیٹس اور عالمی کرپٹو مارکیٹ کی صورتحال شامل ہیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں اثاثوں کی متحرک صورتحال کو سمجھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنائیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk