بٹ کوائن کی قیمت میں اس ہفتے کے دوران شارٹ ٹرم اضافہ دیکھنے کے بعد جمعہ کو کمی واقع ہوئی اور یہ 65 ہزار ڈالر کی سطح پر مستحکم ہو گئی۔ اس دوران دیگر کریپٹو کرنسی سے منسلک اسٹاکس جیسے کورویو اور بٹ مائن بھی وسیع مارکیٹ میں مندی کے رجحان کے باعث گرے۔ مارکیٹ میں اس طرح کی اتار چڑھاؤ عام طور پر سرمایہ کاروں کی جذباتی تبدیلیوں اور عالمی معاشی حالات کے اثرات کا نتیجہ ہوتا ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے معروف اور قدیم ڈیجیٹل کرنسی ہے، پچھلے چند سالوں میں بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کر چکی ہے اور اسے ایک متبادل سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، اس کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ بھی عام ہے، جو اسے روایتی کرنسیوں کی نسبت زیادہ خطرناک بناتا ہے۔ اس ہفتے کے دوران بٹ کوائن کی قیمت نے عارضی طور پر 69 ہزار ڈالر کی بلند ترین حد کو چھوا تھا، لیکن پھر مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی فروخت کے باعث قیمتیں نیچے آگئیں۔
اسی دوران، عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کا رجحان رہا، جس سے ٹیکنالوجی اور کرپٹو کرنسی سے منسلک کمپنیوں کے حصص کی قدر متاثر ہوئی۔ اس کے برعکس، سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جو عام طور پر معاشی غیر یقینی صورتحال میں ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ سرمایہ کار سونے کی طرف رخ کرتے ہیں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچ سکیں۔
آگے چل کر، اگر عالمی مالیاتی حالات میں استحکام نہ آیا تو بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، دنیا بھر کی مرکزی بینکوں کی مالی پالیسیوں اور اقتصادی اعداد و شمار بھی مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے کرتے وقت محتاط رہیں اور مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt