ایتھ ڈینور کانفرنس میں ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی کے ماہرین نے خبردار کیا کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیز رفتار ترقی بٹ کوائن کی ڈیجیٹل دستخطوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اس دوران صنعت کے مختلف نمائندے اور ڈیولپرز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے کس طرح تیاریاں کی جائیں۔
بٹ کوائن دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کریپٹو کرنسی ہے جس کی حفاظت کرپٹوگرافک دستخطوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یہ دستخط اس وقت کلاسیکی کمپیوٹرز کے لیے تقریبا غیرقابلِ شکست سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم کوانٹم کمپیوٹرز، جو کہ روایتی کمپیوٹرز سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں، بٹ کوائن کے اس سیکیورٹی نظام کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ خطرہ حقیقت بن گیا تو بٹ کوائن کی نیٹ ورک سیکیورٹی اور صارفین کے فنڈز کو سنجیدہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایتھریم کے ماہرین اور ڈیولپرز نے اس موقع پر کہا کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے خلاف مضبوط حفاظتی حکمت عملی تیار کرنا اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایتھریم خود ایک مشہور بلاک چین پروٹوکول ہے جو سمارٹ کنٹریکٹس اور ڈی سینٹرلائزڈ ایپلیکیشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کانفرنس میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے اثرات اور ممکنہ حل پر گہری بحث ہوئی۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں بٹ کوائن کی سیکیورٹی ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ اس کے بغیر صارفین کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بٹ کوائن کی سلامتی کو لاحق خطرات بڑھ سکتے ہیں، جس سے کرپٹو مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں اس کوانٹم خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے کس قسم کے تکنیکی حل اپنائیں گی تاکہ مستقبل میں صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے اور ڈیجیٹل کرنسیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt