بِٹ کوائن کی قیمت میں شدید کمی، سطح 81,000 ڈالر تک گر گئی

زبان کا انتخاب

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 10,000 ڈالر کی کمی دیکھی ہے اور اس وقت اس کی قیمت نومبر کے مہینے میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے قریب یعنی 81,000 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ زبردست گراوٹ کرپٹو مارکیٹ میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کیونکہ بِٹ کوائن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ پوری کرپٹو انڈسٹری پر اثر انداز ہوتا ہے۔
بِٹ کوائن، جو کہ ڈیجیٹل کرنسی ہے اور بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، نے پچھلے کچھ سالوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں میں اپنی جگہ مضبوط کی ہے۔ اس کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ عام بات ہے، لیکن اس قدر تیز کمی مارکیٹ کے لیے خطرے کی گھنٹی تصور کی جاتی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک اشارہ ہو سکتا ہے کہ انہیں اپنی سرمایہ کاری کے حوالے سے زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔
گذشتہ چند مہینوں میں، عالمی معاشی صورتحال، سود کی شرح میں تبدیلیاں، اور دیگر مالیاتی عوامل نے کرپٹو کرنسی کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔ بِٹ کوائن کی قیمت میں یہ کمی ممکنہ طور پر مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ قیمت مزید نیچے جا سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، لیکن سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کو حالات پر گہری نظر رکھنی ہوگی تاکہ وہ ممکنہ نقصانات سے بچ سکیں اور مناسب حکمت عملی اپنا سکیں۔ فی الحال، بِٹ کوائن کی قیمت میں یہ کمی کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی صحت کے لیے ایک اہم پیغام ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے