بٹ کوائن کی قیمت 90,000 ڈالر سے نیچے گرنے کے باعث آن چین ریئلائزڈ منافع کے میٹرکس منفی زون میں چلے گئے ہیں، جو کہ گزشتہ بیئر مارکیٹ سے قبل کی صورتحال کی یاد دلاتا ہے۔ آن چین ریئلائزڈ منافع ایک ایسا اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ سرمایہ کاروں نے اپنے بٹ کوائنز پر کتنا منافع کمایا یا نقصان اٹھایا ہے، اور اس کا منفی ہونا مارکیٹ میں تشویش کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
کریپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عام بات ہے، مگر 90,000 ڈالر سے نیچے گرنا ایک اہم سنگ میل ہے کیونکہ یہ حالیہ برسوں میں بٹ کوائن کی اعلیٰ ترین قیمتوں سے کافی کم ہے۔ بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، نے 2021 اور 2022 میں کئی بار قیمت کے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، اور اس کی قیمت میں کمی اکثر پورے کرپٹو مارکیٹ کی صورتحال پر اثرانداز ہوتی ہے۔
CryptoQuant جیسی تجزیاتی کمپنیوں کی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ آن چین میٹرکس مارکیٹ کے جذبات اور سرمایہ کاروں کے رویے کی بہتر سمجھ فراہم کرتے ہیں۔ منافع بخش دور کا منفی ہونا یہ بتاتا ہے کہ بٹ کوائن ہولڈرز نے اپنے اثاثے نقصان میں بیچے ہیں، جو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ کی غیر متوقع نوعیت اور عالمی اقتصادی عوامل کی وجہ سے مستقبل میں بٹ کوائن کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ محتاط رہیں اور مارکیٹ کی صورتحال کو غور سے دیکھیں، کیونکہ منافع بخش دور کا منفی ہونا اکثر مارکیٹ میں مزید دباؤ کا پیش خیمہ بنتا ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت میں اس قسم کی تبدیلیاں عالمی مالیاتی مارکیٹ اور دیگر کرپٹو کرنسیز پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں، اس لیے اس کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt