کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت گزشتہ ہفتے کے دوران امریکی اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے باعث کچھ کمی کے بعد دوبارہ 63,000 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یہ قیمت میں اتار چڑھاؤ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ہونے والے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
عام طور پر، جب دنیا میں سیاسی یا فوجی تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں تو سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنے بڑے اثاثے فروخت کر دیتے ہیں۔ بِٹ کوائن کی منفرد خاصیت یہ ہے کہ یہ 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن دستیاب رہنے والی کرنسی ہے، جس کی وجہ سے اسے ایک ایسا اثاثہ سمجھا جاتا ہے جسے کسی بھی وقت فروخت کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جغرافیائی سیاسی بحران ہوتے ہیں تو بِٹ کوائن کی قیمت میں عارضی گراوٹ آتی ہے، لیکن یہ قیمت عموماً جلد واپس اپنی پوزیشن پر آ جاتی ہے۔
بِٹ کوائن نے اپنی ابتداء سے لے کر اب تک کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کار اس کی طرف رجوع کرتے ہیں کیونکہ اسے ایک ڈیجیٹل محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ ایران پر حالیہ حملے کے بعد سرمایہ کاروں نے بِٹ کوائن میں عارضی طور پر سرمایہ کاری کم کی، لیکن مارکیٹ نے جلد ہی استحکام حاصل کر لیا۔
آنے والے دنوں میں، اگر جغرافیائی سیاسی حالات مزید کشیدہ ہوتے ہیں تو بِٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ تاہم، اس کی 24/7 لیکویڈیٹی اور عالمی قبولیت اسے سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم آپشن بناتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روایتی مالی مارکیٹس بند ہوتی ہیں یا محدود ہوتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk