بٹ کوائن مارکیٹ کا کف ممکنہ طور پر قریب ہے، سونا کے مقابلے میں تجزیہ کار کا کہنا ہے

زبان کا انتخاب

کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ کے بعد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مارکیٹ کا کف یعنی سب سے نچلا نقطہ قریب آ سکتا ہے، خاص طور پر اگر اس کا موازنہ سونے کی قیمتوں سے کیا جائے۔ تاریخی طور پر، بٹ کوائن کے بیئر مارکیٹس یعنی قیمتوں میں مسلسل کمی کے ادوار تقریباً 12 سے 13 ماہ تک جاری رہتے ہیں، جس کی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اگر اسے امریکی ڈالر میں ماپا جائے تو یہ مندی کا سلسلہ ممکنہ طور پر 2026 کے آخر تک جاری رہ سکتا ہے۔
بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا آغاز 2009 میں ہوا اور یہ دنیا کی سب سے معروف اور قیمتی کرپٹو کرنسی قرار پاتی ہے۔ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عام بات ہے اور اسے سرمایہ کاری کے لیے ایک اتار چڑھاؤ والی لیکن پرکشش مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ سونا ایک روایتی سرمایہ کاری کا ذریعہ ہے جو مالی بحرانوں اور مہنگائی کے دوران محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ بٹ کوائن اور سونے کے درمیان موازنہ سرمایہ کاروں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی کی قیمتوں کا رجحان کس سمت جا رہا ہے۔
بٹ کوائن کی مارکیٹ میں گراوٹ کے دوران سرمایہ کاروں کے لیے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ قیمتوں میں مسلسل کمی سے سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سونے کے مقابلے میں بٹ کوائن کی قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو مارکیٹ کا کف قریب ہونے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ قیمتیں جلد کسی حد تک مستحکم ہو سکتی ہیں یا بڑھنا شروع ہو سکتی ہیں۔
اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ کرپٹو کرنسی کی مارکیٹس روایتی مارکیٹس کے مقابلے میں زیادہ غیر متوقع اور اتار چڑھاؤ والی ہوتی ہیں۔ آئندہ مہینوں میں بٹ کوائن کی قیمتوں کے رجحان پر نظر رکھنا ضروری ہوگا تاکہ سرمایہ کار بہتر فیصلے کر سکیں۔ مجموعی طور پر، بٹ کوائن کی قیمتوں میں استحکام کی توقع مارکیٹ میں اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش