کرپٹو کرنسی بٹ کوائن نے اکتوبر کے مہینے میں اپنی بلند ترین قیمت کے بعد سے تقریباً 45 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی ہے، تاہم مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کرنسی ابھی اپنی بیئر مارکیٹ کے نچلے ترین مقام پر نہیں پہنچی ہے۔ کرپٹو مارکیٹ کی نگرانی کرنے والی فرم کرپٹو کوانٹ کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بٹ کوائن کے موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں کو مزید احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، نے گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے اور سرمایہ کاری کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم کے طور پر ابھری ہے۔ اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عالمی کرپٹو مارکیٹ پر بھی گہرا پڑتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں بٹ کوائن نے کئی ادوار میں زبردست اضافہ دیکھا، لیکن حالیہ مہینوں میں عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال، سود کی شرحوں میں اضافہ اور دیگر ماکرو اکنامک عوامل نے اس کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ میں بیئر مارکیٹ کی اصطلاح اس وقت استعمال ہوتی ہے جب کرنسی کی قیمتیں طویل مدت تک مسلسل گر رہی ہوں اور سرمایہ کاروں میں مندی کا رجحان غالب ہو۔ کرپٹو کوانٹ کی رپورٹ کے مطابق ابھی بٹ کوائن کی قیمتوں میں مزید کمی کا خدشہ موجود ہے، اور سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مالی فیصلے کریں۔
اگرچہ بٹ کوائن میں موجودہ کمی نے سرمایہ کاروں کو مایوس کیا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مارکیٹ کی فطری حرکت ہے اور وقت کے ساتھ حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کو مضبوط بنائیں اور مارکیٹ کی تازہ ترین صورتحال پر گہری نظر رکھیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع تبدیلی کے لیے تیار رہ سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt