بٹ کوائن ہولڈرز نے قیمتوں میں سست روی کے دوران ذخیرہ اندوزی کا رجحان اپنایا

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کے طویل مدتی سرمایہ کاروں نے جنوری کے آغاز سے قیمت کے عروج کے قریب مسلسل فروخت کرنے کے بجائے ذخیرہ اندوزی کی طرف رخ کر لیا ہے۔ این ایس تھری ڈاٹ اے آئی کے اعداد و شمار کے مطابق، اس رویے میں تبدیلی نے ابھی تک بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ نہیں دکھایا۔ تاریخی رجحانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے آرام دہ دورانیے اکثر مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ سے قبل ہوتے ہیں۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، نے گزشتہ چند سالوں میں سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے رکھا ہے۔ اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی صورتحال اور کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے عمومی رجحانات سے متاثر ہوتا ہے۔ طویل مدتی ہولڈرز عام طور پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران اپنے اثاثے بیچنے کی بجائے محفوظ رکھتے ہیں تاکہ مارکیٹ کے استحکام کے وقت زیادہ منافع کما سکیں۔
اب جبکہ بٹ کوائن کی قیمتوں میں خاصی حد تک استحکام نظر آ رہا ہے، سرمایہ کار اپنے سکے ذخیرہ کر کے مستقبل کی ممکنہ قیمتوں میں اضافے کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم، مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی عموماً بڑی قیمتوں کی تبدیلیوں کی نوید ہوتی ہے، جس میں تیزی یا گراوٹ دونوں ممکن ہیں۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی اس نوعیت کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھنی چاہیے تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ آنے والے عرصے میں بٹ کوائن کی قیمت کا تعین عالمی مالیاتی حالات، کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے رویے پر منحصر ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے