بٹ کوائن ہیش ریٹ میں چین کے مائننگ پابندی کے بعد سب سے بڑی 12 فیصد کمی: کرپٹو کوانٹ

زبان کا انتخاب

امریکہ میں شدید موسم سرما کے طوفان نے بٹ کوائن مائنرز کی سرگرمیاں متاثر کی ہیں جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کا ہیش ریٹ، پیداوار اور مائنرز کے منافع میں کئی مہینوں کی کمزوری دیکھی گئی ہے۔ ہیش ریٹ وہ پیمانہ ہے جو بٹ کوائن نیٹ ورک کی کمپیوٹنگ طاقت کو ظاہر کرتا ہے اور اس میں کمی کا مطلب ہے کہ نیٹ ورک کی سکیورٹی اور لین دین کی تیزرفتاری متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ کمی چین کی جانب سے بٹ کوائن مائننگ پر پابندی عائد کرنے کے بعد سب سے شدید ہے، جب مائننگ آپریشنز بڑے پیمانے پر چین سے امریکہ اور دیگر ممالک کی طرف منتقل ہوئے تھے۔ چین کی پابندی کے بعد امریکہ بٹ کوائن مائننگ کا ایک بڑا مرکز بن گیا تھا، مگر اب شدید موسم کی وجہ سے وہاں کے مائننگ فارموں کو اپنی پیداوار کم کرنی پڑی ہے۔
بٹ کوائن مائننگ ایک توانائی شدید عمل ہے جس میں کمپیوٹرز انتہائی پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کرتے ہیں تاکہ نیٹ ورک کی حفاظت کی جا سکے اور نئے سکے جاری کیے جا سکیں۔ اس عمل میں توانائی کی دستیابی اور قیمت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ موسم کی خرابیوں نے بجلی کی قلت اور لاگت میں اضافے کا باعث بن کر مائنرز کے منافع پر منفی اثر ڈالا ہے۔
اس صورتحال سے بٹ کوائن نیٹ ورک کی سکیورٹی اور لین دین کی تصدیق کی رفتار کم ہو سکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں اور صارفین میں تشویش بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عارضی مسئلہ ہے اور موسم کے بہتر ہونے کے ساتھ مائننگ سرگرمیاں بحال ہوں گی۔ اس کے علاوہ، مائنرز تیزی سے توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے موسمی اثرات سے بچا جا سکے۔
بٹ کوائن کی قیمت اور نیٹ ورک کی کارکردگی پر اس طرح کے عوامل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، کیونکہ ہیش ریٹ میں کمی کا مطلب نیٹ ورک کی کمزوری اور ممکنہ حملوں کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے مائننگ کے ماحولیاتی اور تکنیکی مسائل پر توجہ دینا اب پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش