بٹ کوائن کی قیمت 88 ہزار ڈالر پر مستحکم، ڈالر کی سالانہ گراوٹ اور سونے کی نئی بلندیوں کے باوجود

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمت حالیہ دنوں میں تقریباً 88 ہزار ڈالر کے قریب مستحکم ہے، جب کہ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) گزشتہ بارہ ماہ میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور سونا نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ مالی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ بٹ کوائن نے ایک محفوظ اثاثے کی بجائے ایک زیادہ خطرناک اور اتار چڑھاؤ والے بیٹا اثاثے کے طور پر کام کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کار اسے ڈالر کے مقابلے میں حفاظتی ہج کے طور پر نہیں دیکھ رہے۔
روایتی طور پر، سونا اور دیگر قیمتی دھاتیں کرنسی کی کمزوری کے دوران سرمایہ کاروں کی ترجیح ہوتی ہیں کیونکہ یہ اثاثے افراط زر اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، بٹ کوائن کو اکثر “ڈیجیٹل گولڈ” کہا جاتا رہا ہے، یعنی اسے بھی ایک طرح کا محفوظ اثاثہ سمجھا جاتا تھا جو مالیاتی غیر یقینی صورتحال میں قیمت مستحکم رکھتا ہے۔ تاہم، موجودہ مارکیٹ رجحانات نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے کیونکہ بٹ کوائن کی قیمت میں زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جو اسے روایتی کرنسیوں یا سونے کی طرح ایک مستحکم ہج اثاثہ نہیں بننے دیتا۔
بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتیں عمومی طور پر عالمی مالیاتی حالات، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں، اور سرمایہ کاری کے رجحانات سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس وقت امریکی ڈالر کی کمزوری کے دوران بھی بٹ کوائن کی قیمت مستحکم رہنا اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا رویہ زیادہ خطرہ قبول کرنے والا ہے اور وہ اسے زیادہ تر فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں نہ کہ خطرات سے بچاؤ کے لیے۔
آئندہ چند ہفتوں میں اگر عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں مزید اتار چڑھاؤ آتا ہے یا مرکزی بینک اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرتے ہیں تو یہ بٹ کوائن کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کرپٹو کرنسیوں کی غیر مستحکم فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے کریں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے