بٹ کوائن کی قیمت 74,000 ڈالر پر لوٹ گئی، ٹیکنالوجی سیکٹر میں مصنوعی ذہانت کی خدشات سے دباؤ

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمت ایک بار پھر 74,000 ڈالر کی سطح پر آ گئی ہے، جہاں یہ دفاعی انداز میں مستحکم ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکنالوجی سیکٹر میں مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق خدشات نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کا اثر کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔
خاص طور پر AI انفراسٹرکچر سے جڑی ہوئی کمپنیوں جیسے HUT 8، IREN، اور Cipher Mining کے اسٹاکس میں شدید گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ ان کمپنیوں کا تعلق کرپٹو کرنسی مائننگ کے شعبے سے ہے، جہاں AI ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سرمایہ کاروں میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس کے علاوہ، چپ ساز کمپنی AMD کے حصص میں بھی چوتھی سہ ماہی کی مالی کارکردگی کے بعد 14 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی ہے، جس نے مجموعی طور پر ٹیکنالوجی سیکٹر کو متاثر کیا ہے۔
AMD ایک معروف عالمی چپ بنانے والی کمپنی ہے جو مصنوعی ذہانت اور کرپٹو کرنسی مائننگ کے لیے ضروری ہارڈویئر فراہم کرتی ہے۔ اس کے نتائج کے اثرات نے مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا کر دیا ہے، جس کا اثر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر بھی پڑا ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ عام طور پر عالمی معاشی و ٹیکنالوجی رجحانات سے متاثر ہوتی ہے، اور اس وقت AI کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی تشویش نے مارکیٹ کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیک سیکٹر میں مالی نتائج اور مستقبل کی پیش گوئیاں بھی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اگرچہ بٹ کوائن نے کچھ دباؤ برداشت کیا ہے، مگر یہ ایک معروف اور سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ہے جس کی قیمتیں عام طور پر مارکیٹ کی مجموعی صورتحال کے مطابق حرکت کرتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو اس وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی ٹیکنالوجی سیکٹر میں غیر یقینی صورتحال کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش