بٹ کوائن پر یین کی مالی پوزیشن کی بحالی کے باعث سیل آف کا دباؤ

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمتوں میں حالیہ کمی کا تعلق براہِ راست کرپٹو کرنسی کی خبروں سے نہیں بلکہ جاپانی ین کی مالی پوزیشن (carry unwind) کی بحالی سے ہے، جس کے نتیجے میں مختلف اثاثوں کی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کم ہو رہی ہے۔ مالیاتی تجزیہ کار NS3.AI کے مطابق، امریکی ڈالر اور جاپانی ین کے درمیان تیزی سے بدلتے ہوئے تبادلہ نرخ اور جاپان کی مرکزی حکومتی مداخلت کے اشارے، سرمایہ کاروں کو اپنے لیوریجڈ پورٹ فولیوز میں خطرہ کم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں بٹ کوائن کی لیکویڈیٹی اور اس کے مشتقات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
carry unwind کی یہ اصطلاح اس مالی عمل کی نشاندہی کرتی ہے جس میں سرمایہ کار کم سود والے کرنسی قرضے لے کر انہیں زیادہ منافع بخش اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور جب یہ پوزیشنز بند کی جاتی ہیں تو مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے عمل سے نہ صرف کرپٹو مارکیٹ بلکہ دیگر مالیاتی بازار بھی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک کراس-ایسٹس ڈی لیوریجنگ کا باعث بنتے ہیں۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی معروف ڈیجیٹل کرنسی ہے، عام طور پر کرپٹو کرنسی کی اندرونی خبروں، ریگولیٹری اقدامات، یا ٹیکنالوجیکل اپڈیٹس سے متاثر ہوتا ہے، لیکن اس مرتبہ اس کی قیمتوں میں کمی عالمی مالیاتی نظام میں جاپانی ین کی پوزیشن کی بحالی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، فارن ایکسچینج مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال، مارجن پر دباؤ اور کرپٹو مارکیٹ کے داخلی عوامل کو مانیٹر کر کے ایسے سیل آف کی پیشگی شناخت ممکن ہو سکتی ہے۔
اگرچہ یہ صورتحال وقتی ہو سکتی ہے، مگر سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ ان بین الاقوامی مالیاتی عوامل پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ یہ کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں پر غیر متوقع اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ آئندہ بھی جاپان کی مالیاتی حکمت عملی اور عالمی کرنسی مارکیٹ کی تبدیلیوں کی روشنی میں بٹ کوائن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے