عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی کل مالیت گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں معمولی کمی کے ساتھ تقریباً 2.79 ٹریلین ڈالر پر مستحکم ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت 24 گھنٹوں کے دوران 81,871 سے 84,621 ڈالر کے درمیان رہی اور اس وقت یہ 83,048 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے جو کہ گزشتہ روز کے مقابلے میں 0.74 فیصد اضافہ ہے۔ دیگر بڑے کرپٹو کرنسیز میں مخلوط رجحان دیکھا جا رہا ہے، جبکہ SYN، ENSO اور INIT نے بالترتیب 65، 29 اور 17 فیصد کی زبردست نمو دکھائی ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کے اگلے چیئرمین کے طور پر کیون وارش کی نامزدگی نے مالیاتی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلی کی توقعات کو جنم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ میں جزوی سرکاری بندش اور میٹروپولیٹن کیپٹل بینک اینڈ ٹرسٹ کا بند ہونا 2026 کا پہلا بینک فیلئر ثابت ہوا ہے، جس نے مالیاتی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھاوا دیا ہے۔ اسی دوران، بلیک راک نے 528.3 ملین ڈالر مالیت کے بٹ کوائن اپنے پورٹ فولیو سے بیچ دیے ہیں، جو کرپٹو مارکیٹ پر منفی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، سونا اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی ترجیحات میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔ جے پی مورگن کی رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن کے فیوچرز کو زیادہ فروخت کیا جا چکا ہے جبکہ سونا اور چاندی کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ٹینیسی کی جانب سے عوامی فنڈز میں بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کے امکانات اور سیک کی جانب سے 4x SPY ETF کی درخواست کی مستردگی بھی مارکیٹ کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
یہ تمام عوامل بٹ کوائن سمیت کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے لیے نئے چیلنجز اور مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو مالیاتی پالیسیوں، بینکنگ سیکٹر کی صورتحال اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ وہ بہتر حکمت عملی ترتیب دے سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance