کرپٹو کرنسی کے معروف پلیٹ فارم پیکس فول پر فحاشی اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی محکمہ انصاف نے اس کمپنی کو جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔ پیکس فول نے جرمانے کی صورت میں 112 ملین ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم محکمہ انصاف نے مالی جائزے کے بعد فیصلہ کیا کہ کمپنی صرف 4 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتی ہے۔
پیکس فول ایک معروف بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کا پلیٹ فارم ہے جو صارفین کو بلاواسطہ لین دین کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس طرح کے پلیٹ فارموں پر غیر قانونی سرگرمیوں جیسے کہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی کاموں کی مالی معاونت کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں، خاص طور پر جب یہ پلیٹ فارم براہ راست صارفین کو جوڑتے ہیں۔ اس کیس میں پیکس فول پر الزام تھا کہ اس کے ذریعے فحاشی اور منی لانڈرنگ کی مالی کارروائیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے اسے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا۔
کرپٹو کرنسی کے میدان میں شفافیت اور قانونی پابندیوں کو یقینی بنانا ایک چیلنج ہے کیونکہ ڈیجیٹل کرنسیاں روایتی مالی نظام سے مختلف ہوتی ہیں اور ان کی نگرانی پیچیدہ ہوتی ہے۔ اس کیس کا اثر دیگر کرپٹو کرنسی ایکسچینجز پر بھی پڑ سکتا ہے، جو اپنی خدمات میں احتیاط برتنے اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔
اب پیکس فول کو یہ جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کے بعد کمپنی اپنی داخلی پالیسیوں میں سختی لائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے قانونی مسائل سے بچا جا سکے۔ اس واقعہ سے کرپٹو کرنسی کی صنعت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی میں اضافہ کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt