بٹ کوائن اور ایتھر کے کرپٹو کرنسی مارکیٹس امریکی مہنگائی کی حالیہ رپورٹ کے اعلان سے قبل کم تبدیلی کے ساتھ مستحکم دیکھائی دے رہی ہیں۔ ڈیریویٹیوز مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی انداز میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے، جس میں مالیاتی طریقوں کی صفائی، مثبت فنانسنگ ریٹس، اور ادارہ جاتی بنیادوں میں اضافہ شامل ہے۔ تاہم، تاجروں کی طرف سے قلیل مدتی مندی سے بچاؤ کے لیے اضافی قیمت ادا کرنے کا رجحان ابھی بھی موجود ہے۔
بٹ کوائن اور ایتھر دنیا کی دو سب سے بڑی کرپٹو کرنسیز ہیں، جن کی قیمتوں پر عالمی مالیاتی اور معاشی عوامل کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ امریکی مہنگائی کی رپورٹ اکثر مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنتی ہے کیونکہ یہ رپورٹ فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی اور سود کی شرحوں میں ممکنہ تبدیلیوں کی سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس لیے سرمایہ کار اور تاجروں کی نظر اس رپورٹ پر مرکوز ہوتی ہے تاکہ مستقبل کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔
آج کے حالات میں، کرپٹو مارکیٹ میں موجودہ استحکام اُس توقعات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی مہنگائی کی شرح میں کوئی غیر متوقع اضافہ نہیں ہوگا، جو مالیاتی مارکیٹوں کے لیے سکون کا باعث ہے۔ تاہم، قلیل مدتی مندی سے بچاؤ کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مارکیٹ کے کچھ حصے غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر محتاط ہیں اور ممکنہ مندی کے خطرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مستقبل میں اگر امریکی مہنگائی کی رپورٹ توقعات سے زیادہ سخت نکلی تو یہ کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں میں نرمی یا تیزی کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر بٹ کوائن اور ایتھر جیسی اہم کرنسیوں میں۔ اس کے علاوہ، فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں ممکنہ تبدیلیاں بھی مارکیٹ کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
اس وقت سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار اور اس کے عالمی مالیاتی اثرات پر گہری نظر رکھیں تاکہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اچانک تبدیلیوں سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk