بٹ کوائن کی قیمت نو ماہ کی کم ترین سطح تک گرنے کے باعث سرمایہ کاروں نے بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایفز) سے تقریباﹰ 817 ملین ڈالر کی رقم نکال لی ہے۔ اس دوران عالمی مالیاتی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاری کے جذبے کو متاثر کیا ہے۔ ای ٹی ایفز ایسے مالیاتی آلات ہوتے ہیں جو ایکسچینج پر اسٹاک کی طرح خریدے اور بیچے جاتے ہیں اور بٹ کوائن ای ٹی ایفز سرمایہ کاروں کو کرپٹو کرنسی میں براہ راست سرمایہ کاری کے بغیر مارکیٹ میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے قیمت میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ اس کی قیمت میں حالیہ کمی کا تعلق عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی بےچینی، افراط زر کی شرح میں تبدیلیوں اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن کی قیمت میں کمی سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کا اثر ای ٹی ایفز پر بھی پڑا۔
ای ٹی ایفز سے سرمایہ کاری کی رقم کی نکاسی سرمایہ کاروں کے خطرے سے بچاؤ کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جو اس وقت مالیاتی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں، جبکہ سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کے حوالے سے محتاط رویہ اپنانے پر مجبور ہیں۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ اپنی فطرت کے مطابق شدید اتار چڑھاؤ کا حامل رہی ہے، جہاں قیمتوں میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ بٹ کوائن ای ٹی ایفز کی ان نکاسیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں ہیں۔ مستقبل میں، اگر عالمی مالیاتی حالات میں استحکام آتا ہے تو بٹ کوائن کی قیمتوں میں بہتری کا امکان موجود ہے، ورنہ مارکیٹ میں مزید مندی کا رجحان دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt