بٹ کوائن کی قیمت اکتوبر کی بلند ترین سطح سے 40 فیصد سے زائد گر چکی ہے، تاہم اسپوٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں نے صرف 6.6 فیصد اثاثے نکالے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ای ٹی ایف سرمایہ کاروں نے بڑی حد تک اپنی پوزیشنز برقرار رکھی ہیں، جو کرپٹو مارکیٹ میں موجودہ اتار چڑھاؤ کے مقابلے میں مستحکم رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔
بٹ کوائن ای ٹی ایف، جو بٹ کوائن کی قیمت کی پیروی کرنے والے مالیاتی آلات ہیں، سرمایہ کاروں کو براہ راست کرپٹو کرنسی خریدنے کی بجائے ایک منظم اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں سرمایہ کاری کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ اس طرح کے ای ٹی ایف نے بٹ کوائن کی مقبولیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کے لیے جو براہ راست کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔
بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ گراوٹ متعدد عوامل کی وجہ سے واقع ہوئی ہے، جن میں عالمی مالیاتی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال اور کرپٹوکرنسی سیکٹر میں قواعد و ضوابط کی ممکنہ سختی شامل ہیں۔ تاہم، ای ٹی ایف میں کم سرمایہ کاری کی واپسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طویل مدتی سرمایہ کار ابھی بھی کرپٹو کرنسی کی ممکنہ بحالی پر اعتماد رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بٹ کوائن میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، لیکن سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی زیادہ مندی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے میں بٹ کوائن ای ٹی ایف کا مستحکم رہنا مارکیٹ کی صحت کے لیے ایک مثبت علامت ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ کرپٹو اثاثے مالیاتی دنیا میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
آئندہ کے لیے خدشات اور مواقع دونوں موجود ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ کرپٹوکرنسی مارکیٹ کی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کو مارکیٹ کے مطابق ڈھالیں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk