بٹ کوائن کی قیمت 78,000 ڈالر تک گر گئی، مائیکرو اسٹریٹیجی کے باعث ریلی میں خریداری کمزور

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ اپریل کے بعد سب سے کم سطح پر آ گئی ہے۔ مارکیٹ میں ابتدائی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع نکالنے کی کوششوں کے باعث لیکوئڈیٹی کم ہو گئی ہے اور نئے سرمایہ کی آمد میں بھی تیزی سے کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی حالیہ تیز رفتار ریلی متاثر ہوئی ہے جو مائیکرو اسٹریٹیجی کی جانب سے اس کرپٹو کرنسی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے بعد شروع ہوئی تھی۔
مائیکرو اسٹریٹیجی، جو دنیا کی سب سے بڑی کاروباری انٹیلی جنس کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے بٹ کوائن میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور کئی بار اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی بدولت بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ ہوا اور اسے ایک مضبوط اپ ٹرینڈ ملا۔ تاہم، اب جب کہ ابتدائی سرمایہ کار اپنی پوزیشنز سے نکل رہے ہیں اور نئی سرمایہ کاری محدود ہو گئی ہے، تو قیمتوں میں کمی آنا فطری عمل سمجھا جا رہا ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹس میں لیکوئڈیٹی کی کمی ہمیشہ قیمتوں پر منفی اثر ڈالتی ہے، خاص طور پر جب مارکیٹ میں زیادہ تر سرمایہ کار منافع کی خاطر اپنے اثاثے بیچنے لگیں۔ اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ بٹ کوائن، جو عالمی سطح پر سب سے معروف اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی کرپٹو کرنسی ہے، کی قیمت میں اتار چڑھاؤ عام بات ہے اور اس کا اثر پوری کرپٹو مارکیٹ پر پڑتا ہے۔
مستقبل میں، اگر مائیکرو اسٹریٹیجی یا دیگر بڑے سرمایہ کار دوبارہ بٹ کوائن کی خریداری میں اضافہ کرتے ہیں تو قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، ورنہ مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کے موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیں اور اپنی سرمایہ کاری کے فیصلے سمجھداری سے کریں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے