بٹ کوائن کے بڑے سرمایہ کار ادارے ڈیولپرز پر کوانٹم کمپیوٹنگ سے متعلق حفاظتی مسائل کو جلد حل نہ کرنے پر عدم تحمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ وینچر کیپٹلسٹ نک کارٹر کے مطابق، اگر بٹ کوائن کی سیکیورٹی کو کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرات سے بچانے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ادارے موجودہ ڈیولپرز کی جگہ نئے افراد لے سکتے ہیں۔ انہوں نے بٹ کوائن کی ڈیولپمنٹ کمیونٹی کی سرگرمیوں میں سستی کی نشاندہی کی ہے جو کہ اس اہم مسئلے پر فوری توجہ کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
نک کارٹر نے خاص طور پر “کارپوریٹ ٹیک اوور” کے امکانات کا ذکر کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر بٹ کوائن میں کوانٹم ریسیسٹنٹ کرپٹوگرافی کا نفاذ نہ ہوا تو بڑی کمپنیاں خود اس عمل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے بلیک راک کمپنی کی مثال دی، جو دنیا کی سب سے بڑی اثاثہ منیجر ہے اور تقریباً 761,801 بٹ کوائنز رکھتی ہے جن کی مالیت تقریباً 50 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ یہ سرمایہ کاری مجموعی بٹ کوائن سپلائی کا بڑا حصہ ہے، جو اداروں کو اس مسئلے پر فوری ردعمل کا مطالبہ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
زیرو نالج کنسلٹنگ کے بانی آسٹن کیمبل نے بھی کارٹر کے خدشات کی تائید کی اور کہا کہ اگر بنیادی مسائل حل نہ ہوئے تو ادارے مداخلت کر سکتے ہیں۔ کارٹر نے کہا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں کمی کا ایک اہم سبب کوانٹم کمپیوٹنگ کا خطرہ ہے جو اس سال کا سب سے بڑا مالی مسئلہ بن سکتا ہے۔
تاہم، کچھ ماہرین اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ لمیڈا ویلتھ مینجمنٹ کے بانی رام اہلووالیہ کا کہنا ہے کہ بڑے ادارے عام طور پر غیر فعال سرمایہ کار ہوتے ہیں اور وہ بٹ کوائن نیٹ ورک میں سرگرم کردار ادا کرنے کے خواہاں نہیں۔ اس لیے کوانٹم کمپیوٹنگ کے حوالے سے فوری ردعمل پر صنعت میں تقسیم پائی جاتی ہے۔
کاپریول انویسٹمنٹس کے بانی چارلس ایڈورڈز کوانٹم کمپیوٹنگ کو بٹ کوائن کے لیے ایک وجودی خطرہ سمجھتے ہیں اور نیٹ ورک کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اپ گریڈز کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ جبکہ کوئن شیئرز کے ریسرچ لیڈ کرسٹوفر بینڈکسن کا خیال ہے کہ بٹ کوائن کا صرف ایک چھوٹا حصہ کوانٹم حملوں کے لئے حساس ہے، اس لیے خطرہ اتنا فوری نہیں جتنا کچھ لوگ سمجھتے ہیں۔
اس کے برعکس، مائیکل سیلر اور ایڈم بیک جیسے معروف شخصیات کا خیال ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کا خطرہ مبالغہ آرائی ہے اور نیٹ ورک پر اس کا اثر آنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ بٹ کوائن کی مستقبل کی حفاظت کے لیے اس مسئلے کو لے کر بحث جاری ہے اور صنعت اس حوالے سے مناسب حکمت عملی بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance