تیل کی قیمت میں 6 فیصد اضافہ، امریکی-ایرانی کشیدگی کے باعث بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسیاں دباؤ میں

زبان کا انتخاب

عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی اور ایرانی کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے اور کرپٹو کرنسیز پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت کم ہو کر تقریباً 66,700 ڈالر پر آ گئی، جب کہ تیل کی قیمت میں 6 فیصد اضافہ ہوا اور تیل کی قیمت 77 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ ایشیائی حصص بازار بھی متاثر ہوئے اور وہاں کے اسٹاک مارکیٹس میں تقریباً 1.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب دنیا بھر کے سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان گزشتہ ہفتے پیش آنے والے فوجی تصادم کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس تنازعے کی وجہ سے پیدا ہونے والے رسک پر مبنی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عام طور پر عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کرتی ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک تبدیلی آ سکتی ہے۔
کرپٹو کرنسیز کی مارکیٹ عام طور پر روایتی مالیاتی منڈیوں کے مقابلے میں زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہے، اور اس طرح کے جغرافیائی سیاسی خطرات سرمایہ کاروں کو کرپٹو اثاثوں سے احتیاط برتنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بٹ کوائن خاص طور پر اس اثر سے متاثر ہوا کیونکہ اسے اکثر ایک خطرے سے بچاؤ کے آلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، مگر اس بار مارکیٹ نے اسے کمزور کرنسی کے طور پر دیکھا۔
مستقبل میں اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو عالمی مالیاتی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے، جو کرپٹو کرنسیز کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے اس صورتحال میں محتاط رہنا اور عالمی سیاسی صورتحال پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے