بٹ کوائن پر مندی کا خدشہ، ایران کے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ

زبان کا انتخاب

تہران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل، امریکہ کے فوجی اڈوں اور خلیجی اتحادیوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کی ایک لہر دیکھی گئی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں دبئی، کویت اور بحرین میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے خطے کی سلامتی اور استحکام شدید متاثر ہوا ہے۔ یہ واقعات عالمی مالیاتی اور کرپٹو کرنسی مارکیٹوں میں بھی غیر یقینی صورتحال کا باعث بنے ہیں، خاص طور پر بٹ کوائن کی قیمتوں پر مایوسی کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے معروف اور مقبول ڈیجیٹل کرنسی ہے، عالمی معیشت میں جغرافیائی سیاسی تناؤ کی صورت میں حساس ردعمل دیتا ہے۔ ایران کے حالیہ حملوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کرپٹو مارکیٹ میں مزید مندی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس قسم کے جغرافیائی سیاسی واقعات عام طور پر سرمایہ کاری میں تحفظ کی تلاش کو بڑھاتے ہیں، جس سے خطرے والے اثاثوں کی قیمتوں میں کمی آتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی نئی نہیں، لیکن حالیہ حملے خطے میں تناو کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی توانائی مارکیٹوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ عالمی تیل کی فراہمی کا ایک اہم مرکز ہے، اور اس خطے میں عدم استحکام عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ سرمایہ کار ممکنہ طور پر اپنے پورٹ فولیو میں تبدیلیاں کر سکتے ہیں، جس کا اثر کرپٹو کرنسیوں سمیت دیگر مالیاتی مارکیٹوں پر پڑتا ہے۔
آئندہ دنوں میں بٹ کوائن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے کیونکہ سیاسی تناؤ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ جغرافیائی سیاسی حالات پر گہری نظر رکھیں اور اپنی سرمایہ کاری کا جائزہ لیتے رہیں۔ خطے میں کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے کرپٹو کرنسی اور دیگر مالیاتی اثاثوں کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش