بٹ کوائن کی قیمت 10 ہزار ڈالر تک گر سکتی ہے، مائیک میک گلون کے مطابق امریکی کساد بازاری کا خطرہ بڑھ رہا ہے

زبان کا انتخاب

مشہور مالیاتی تجزیہ کار مائیک میک گلون نے خبردار کیا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ 10 ہزار ڈالر کی سطح تک گر جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت میں کساد بازاری کے بڑھتے ہوئے خدشات اور مارکیٹ کی موجودہ صورتحال اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔ میک گلون نے بٹ کوائن کی قیمت میں کمی کو امریکہ کی ریکارڈ مارکیٹ کیپ ٹو جی ڈی پی تناسب، کم حصص کی اتار چڑھاؤ والی صورتحال اور سونے کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑا ہے۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، نے گزشتہ چند سالوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اس میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا ہے۔ امریکی معیشت کی کارکردگی اور عالمی مالیاتی حالات کا اس پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، جہاں امریکی مارکیٹ کی پوزیشن تاریخی حدوں پر ہے اور سونا محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مقبول ہو رہا ہے، سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی اسٹاک مارکیٹ کی طرح مندی کا شکار ہو سکتی ہے۔
مائیک میک گلون نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اگر امریکی معیشت واقعی کساد بازاری کی طرف جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف کرپٹو کرنسیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس صورتحال میں، سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور اپنے پورٹ فولیو کی حفاظت کے لیے مناسب حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہوگی۔
گزشتہ برسوں میں بٹ کوائن نے ایک سرمایہ کاری کے متبادل کے طور پر اپنی جگہ بنائی ہے، لیکن اس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے کئی موقعوں پر سرمایہ کاروں کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔ امریکی اور عالمی اقتصادی حالات کی نازک نوعیت کے پیش نظر، بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں مزید کمی کا خدشہ موجود ہے، جو عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش