بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ 89,000 ڈالر کی سطح سے اوپر پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آئی، جن میں انہوں نے امریکی ڈالر کی حالیہ کمزوری پر تشویش ظاہر نہ کرنے کا عندیہ دیا۔ ان کے اس بیان کے بعد امریکی کرنسی کی قدر مزید نیچے گر گئی، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے متبادل کرپٹو کرنسیوں کی جانب رجحان بڑھا دیا۔
بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اسے دنیا بھر میں سرمایہ کاری اور لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عالمی مالیاتی مارکیٹ میں کرپٹو کرنسیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر، جب روایتی کرنسیوں جیسے امریکی ڈالر کی قدر میں کمی آتی ہے تو سرمایہ کار بٹ کوائن کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ کرنسی اپنی محدود فراہمی اور ڈیجیٹل تحفظ کی وجہ سے سرمایہ کاری کا ایک محفوظ ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
امریکی ڈالر کی کمزوری کئی عالمی اور ملکی عوامل کی وجہ سے سامنے آ رہی ہے، جن میں اقتصادی پالیسیوں، تجارتی خسارے، اور سیاسی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ کے بیانات نے مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت کو بڑھاوا دیا ہے، جس سے ڈالر کی قدر نیچے آئی ہے۔ اس کے برعکس، بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں سرمایہ کاروں کے لیے ایک متبادل سرمایہ کاری کا ذریعہ بن گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگر امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری رہا تو سرمایہ کاری کی دنیا میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں، جس میں کرپٹو کرنسیوں کی مانگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، کرپٹو مارکیٹ کی غیر مستحکم نوعیت کے پیش نظر سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ قیمتوں میں تیزی سے اتار چڑھاؤ آنے کا امکان رہتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk