بٹ کوائن میں 7 فیصد اضافہ، مگر امریکی مارکیٹ میں کرپٹو کرنسیوں پر دباؤ برقرار

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن نے حالیہ کم ترین سطح سے تقریباً 7 فیصد کی بحالی دکھائی ہے، تاہم امریکی تجارتی دن کے دوران مجموعی طور پر کرپٹو کرنسی مارکیٹ پر دباؤ قائم رہا۔ اس کے باوجود، کرپٹو سے متعلقہ اسٹاکس جیسے رابن ہڈ، کوائن بیس اور اسٹریٹیجی نے پیر کے روز نمایاں خسارے دکھائے، جو سرمایہ کاروں میں تشویش کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بٹ کوائن، جو دنیا کی سب سے بڑی اور معروف کرپٹو کرنسی ہے، اپنی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے، جس کی وجہ عالمی معیشتی حالات، ریگولیٹری خدشات اور سرمایہ کاروں کے جذبات میں تبدیلیاں ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں، کرپٹو کرنسیوں کو مرکزی دھارے میں قبولیت میں اضافے کے باوجود، امریکی مالیاتی حکام کی سخت نگرانی اور ممکنہ قواعد و ضوابط کے باعث مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔
رابن ہڈ اور کوائن بیس جیسی کمپنیوں نے کرپٹو کرنسیوں کی تجارت کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، مگر ان کے حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسٹریٹیجی جیسی سرمایہ کاری فرموں پر بھی مارکیٹ کی ناہمواری کا منفی اثر دیکھا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں آئندہ بھی اتار چڑھاؤ کا امکان ہے، خاص طور پر جب تک عالمی اقتصادی حالات مستحکم نہیں ہوتے اور ریگولیٹری فریم ورک واضح نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔
کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ حالیہ برسوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن اس کی نوعیت میں inherent volatility اور حکومتی نگرانی نے اسے ایک پیچیدہ سرمایہ کاری کا میدان بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں، بٹ کوائن کی قیمت میں عارضی بہتری کے باوجود، مجموعی مارکیٹ پر دباؤ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش