ایران میں اربوں روپے کی کرپٹو کرنسی کی منتقلی، تجزیہ کار جنگ یا معمول کی کاروباری سرگرمی میں الجھے ہوئے ہیں

زبان کا انتخاب

ایران میں حالیہ فضائی حملوں کے بعد فروری کے آخر میں مقامی کرپٹو ایکسچینج نوبٹیکس سے کرپٹو کرنسی کی منتقلی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق نوبٹیکس سے کرپٹو آؤٹ فلو میں تقریباً 873 فیصد اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اپنی ڈیجیٹل اثاثے نکال کر ایک قسم کی “ڈیجیٹل بینک رن” کر رہے ہیں۔ تاہم اس صورتحال کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ردعمل محض جنگی خوف یا اضطراب کی وجہ سے ہے یا یہ کاروبار کی معمول کی روانی ہے۔
نوبٹیکس ایران کی معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج میں سے ایک ہے جو ملکی صارفین کو ڈیجیٹل کرنسیوں کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ایران میں کرپٹو کرنسیوں کا استعمال بڑھ رہا ہے، خاص طور پر معاشی پابندیوں اور بین الاقوامی مالیاتی نظام سے کٹاؤ کے باعث، جس نے لوگوں کو متبادل مالیاتی ذرائع کی طرف راغب کیا ہے۔ اس پس منظر میں کرپٹو مارکیٹ کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینا اہم ہے تاکہ سمجھا جا سکے کہ آیا کرپٹو اثاثوں کی منتقلی کی موجودہ لہر خوف کی علامت ہے یا سرمایہ کاروں کی معمول کی حکمت عملی۔
عالمی سطح پر کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، لیکن کسی ملک میں سیاسی یا فوجی کشیدگی کی صورت میں اس کا اثر مقامی مارکیٹ پر زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ ایران میں بھی سیاسی حالات کے زیر اثر کرپٹو کرنسی کی طلب اور فراہمی میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اگرچہ نوبٹیکس سے کرپٹو کرنسیوں کی بڑی مقدار نکلنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنے اثاثے محفوظ جگہ منتقل کر رہے ہیں، لیکن کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صرف ایک وقتی مارکیٹ کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔
آگے چل کر یہ صورتحال کیسے بدلے گی، اس کا انحصار ایران میں سیاسی استحکام، بین الاقوامی تعلقات اور کرپٹو کرنسی کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر ہوگا۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو کرپٹو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے، جس سے سرمایہ کار محتاط ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اگر صورتحال مستحکم ہوئی تو مارکیٹ معمول کی صورتحال میں واپس آ سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے