بینک آف جاپان کے گورنر اوئیدا نے کہا: حقیقی اجرت کی بڑھوتری مانیٹری پالیسی کا ہدف نہیں

زبان کا انتخاب

بینک آف جاپان کے گورنر کازو اوئیدا نے واضح کیا ہے کہ حقیقی اجرت کی بڑھوتری کو مانیٹری پالیسی کا ہدف بنانا ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجرتوں میں اضافے کو براہ راست مانیٹری پالیسی سے منسلک کرنا مشکل ہے کیونکہ اجرتوں کی حرکات پر متعدد عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جاپان کی معیشت میں اجرتوں کی سست رفتاری اور اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں پر بات چیت جاری ہے۔
بینک آف جاپان دنیا کی تیسری بڑی معیشت کے لیے مرکزی بینک کا کردار ادا کرتا ہے اور اس کی مانیٹری پالیسی کا مقصد عام طور پر قیمتوں کی استحکام اور معیشت کی نمو کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ تاہم، اجرتوں کی حقیقی بڑھوتری کو براہ راست مانیٹری پالیسی کے اہداف میں شامل نہ کرنا اس لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اجرتوں کی سطح کو متاثر کرنے والے عوامل میں مزدور مارکیٹ کی حالت، انفرادی کمپنیوں کی کارکردگی، اور دیگر اقتصادی و سماجی عوامل شامل ہیں۔
اوئیدا کے بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بینک آف جاپان مانیٹری پالیسی کے ذریعے افراط زر یا دیگر اقتصادی مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر اجرتوں کی بڑھوتری کے لیے مخصوص اقدامات کا انتظار نہیں کر رہا۔ اس محتاط رویے کی وجہ سے، جاپان کی معیشت میں اجرتوں کی سست رفتار بڑھوتری کا مسئلہ فوری طور پر حل ہونے کی توقع کم ہے، اور اس کے ساتھ ہی افراط زر کے کنٹرول اور معیشتی استحکام کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
آئندہ جاپان کی معیشت میں اجرتوں کی بڑھوتری اور مانیٹری پالیسی کے تعلقات پر مزید غور و فکر متوقع ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال اور اندرونی چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، جاپان کی حکومت اور بینک آف جاپان کی کوشش ہوگی کہ وہ معیشت میں توازن قائم رکھتے ہوئے روزگار اور اجرتوں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے