بینک آف جاپان نے طویل مدتی حکومتی بانڈز کی حکمت عملی پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان بانڈز کی سرمایہ کاری کی طلب میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ بینک کے پالیسی بورڈ کے رکن تاکاتا ہاجیمے نے جون میں طویل مدتی بانڈز کی کمی کے منصوبے کے درمیانی جائزے کے دوران مارکیٹ کی صورتحال کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بانڈز کی کمزور طلب کے پیش نظر حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلیاں لانا ہے۔
طویل مدتی بانڈز، خاص طور پر جاپان کے الٹرا لانگ ٹرم گورنمنٹ بانڈز، روایتی طور پر سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ رہے ہیں۔ بینک آف جاپان نے گزشتہ برسوں میں اپنی مالی پالیسیوں کے تحت بانڈ مارکیٹ میں سرگرمی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں بانڈ خریداری کے پروگرام شامل ہیں۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں ان بانڈز کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے بینک کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑ رہی ہے۔
بینک آف جاپان کی جانب سے اس قسم کا جائزہ لینا اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی مالی پالیسی میں تبدیلیاں آنے کا امکان ہے تاکہ مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے مطابق حکمت عملی کو بہتر بنایا جا سکے۔ سرمایہ کاری کی کم ہوتی ہوئی طلب اور معاشی حالات میں تبدیلیاں مرکزی بینک کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جو کہ جاپانی معیشت کی استحکام کے لیے اہم ہیں۔
آئندہ چند ماہ میں ممکنہ تبدیلیوں کا اثر جاپان کی مالی مارکیٹوں اور سرمایہ کاروں پر پڑ سکتا ہے، جبکہ مرکزی بینک کی حکمت عملی میں کوئی بھی بڑا موڑ عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance