آسٹریلیا کے کارپوریٹ ریگولیٹر نے ڈیجیٹل اثاثوں میں تیز رفتار جدت کے خطرات کی نشاندہی کی

زبان کا انتخاب

آسٹریلین سیکیورٹیز اینڈ انویسٹمنٹس کمیشن (ASIC) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں ڈیجیٹل اثاثوں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے خطرات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل مالیاتی ٹیکنالوجیز اور AI سسٹمز میں جدت نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے استحکام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
ڈیجیٹل اثاثے، جن میں کرپٹو کرنسیز اور بلاک چین پر مبنی مالیاتی مصنوعات شامل ہیں، عالمی مالیاتی نظام میں تیزی سے اپنا اثر بڑھا رہے ہیں۔ ASIC نے خبردار کیا ہے کہ ان اثاثوں کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ اور ان کے انتظام میں ممکنہ کمزوریاں سرمایہ کاروں کے لیے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ مزید برآں، AI کے استعمال میں بڑھوتری نے مالیاتی خدمات کے شعبے میں نئی قسم کی پیچیدگیاں پیدا کی ہیں، جن میں خودکار ٹریڈنگ اور خطرے کی شناخت شامل ہیں، جن پر مناسب نگرانی اور ضابطہ کاری کی ضرورت ہے۔
آسٹریلیا میں مالیاتی مارکیٹ کی نگرانی کے لیے ASIC کی یہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے ڈیجیٹل تبدیلی کے تیز رفتار عمل کو قابو میں رکھنے کے لیے محتاط حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہیں۔ چونکہ ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ مسلسل ترقی کر رہی ہے، اس لیے ممکنہ مالیاتی بحران اور فراڈ کے امکانات کو کم کرنے کے لیے پالیسی سازوں کو مستحکم اور جامع قواعد و ضوابط بنانے کی ضرورت ہے۔
آنے والے وقت میں، ASIC کی نگرانی اور ضابطہ کاری میں مزید سختی کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور مالیاتی نظام کی شفافیت اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر، مارکیٹ کے شرکاء کو بھی محتاط رہنا ہوگا اور خود کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید رجحانات سے آگاہ رہنا ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے