آسٹریلیا امریکی ٹیرف عائد ہونے کے بعد “تمام اختیارات” پر غور کرے گا

زبان کا انتخاب

آسٹریلیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے غیر ملکی درآمدات پر 15 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اقدام کے بعد مختلف ردعمل کے امکانات پر غور کرے گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پالیسی کا مقصد ملکی صنعتوں کی حفاظت اور درآمدات کو مہنگا کر کے امریکی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کرنا ہے، لیکن اس کے عالمی تجارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بلومبرگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس فیصلے کی بین الاقوامی تجارت پر ممکنہ اثرات کو اجاگر کیا ہے۔ آسٹریلوی انتظامیہ اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے تاکہ اپنے اقتصادی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آگے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ امریکہ کے اس ٹیرف اقدام سے دنیا بھر کے تجارتی شراکت داروں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جن میں آسٹریلیا بھی ایک اہم ملک ہے جو اس کی زد میں آیا ہے۔
آسٹریلیا کی معیشت بڑی حد تک برآمدات پر منحصر ہے اور امریکہ کے ٹیرف اس کی برآمدی مارکیٹوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس کی تجارتی پالیسیاں قومی اقتصادی ترجیحات کے مطابق ہوں اور وہ نئے امریکی ٹیرف کی وجہ سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا موثر مقابلہ کر سکے۔ اس ضمن میں، ممکنہ طور پر آسٹریلیا عالمی تجارتی اداروں یا دیگر بین الاقوامی فورمز پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر سکتا ہے۔
یہ قدم عالمی تجارتی تعلقات میں کشیدگی کی ایک اور مثال ہے، جہاں مختلف ممالک اپنی مقامی صنعتوں کی حفاظت کے لیے تجارتی رکاوٹیں قائم کر رہے ہیں۔ آئندہ دنوں میں آسٹریلیا کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات عالمی مارکیٹ میں اس صورتحال کے اثرات کا تعین کریں گے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے